اسلام آباد مذاکرات کا آغاز، امریکا اور ایران پہلی بار ایک میز پر آمنے سامنے
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد: پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد تاریخ ساز براہِ راست امن مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں دونوں فریق پہلی مرتبہ ایک ہی میز پر بیٹھ کر مستقل جنگ بندی، خطے کے استحکام اور دیرپا امن کے امکانات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی مؤثر سفارت کاری اور حالیہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا اہم مرحلہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ عباس عراقچی اور دیگر سینئر حکام بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ٹیکنیکل کمیٹیاں بھی متحرک
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے ساتھ ساتھ معاشی، سیاسی، قانونی اور سلامتی امور پر ٹیکنیکل کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس بھی جاری ہیں، جن میں دونوں ممالک کے ماہرین شریک ہیں۔ یہ مرحلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اور قابلِ عمل فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دونوں وفود سے الگ ملاقاتیں
مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکی اور ایرانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اس تنازع کے حل کے لیے بطور مصالحت کار مخلصانہ اور غیر جانب دار کوششیں جاری رکھے گا۔
دنیا کی نظریں اسلام آباد پر
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات نہ صرف حالیہ کشیدگی کے خاتمے بلکہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی استحکام کے لیے بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ اسلام آباد میں براہِ راست بات چیت کا آغاز ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب عالمی نظریں ان نتائج پر مرکوز ہیں جو آنے والے دنوں میں خطے کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔