اسلام آباد مذاکرات میں جزوی پیش رفت، تین اہم نکات پر اختلاف برقرار: ایران

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی نمایاں تصویر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد: ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکا۔ایران مذاکرات میں بعض اہم امور پر پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم تین بنیادی نکات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق بات چیت مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئی، بلکہ کئی حساس معاملات پر تفصیلی تبادلۂ خیال نے آئندہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد فراہم کی ہے۔

ایرانی ترجمان نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی ایک اہم اور ذمہ دارانہ سفارتی کوشش تھی، جس نے دونوں فریقین کو براہِ راست بات چیت کا مؤثر موقع فراہم کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

کن نکات پر اختلاف برقرار رہا؟

اسماعیل بقائی کے مطابق دو سے تین کلیدی نکات ایسے رہے جن پر دونوں فریق کسی مشترکہ فارمولے تک نہیں پہنچ سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان میں ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی، پابندیوں کے فوری خاتمے کا طریقۂ کار، اور جنگی نقصانات کے ازالے سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ یہی اختلافات کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب سفارتی اور قانونی ذرائع استعمال کرتا رہے گا، اور کسی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے بنیادی مفادات سے متصادم ہو۔

پاکستانی میزبانی کو سراہا گیا

ایرانی ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے انتہائی متوازن اور بااعتماد ماحول فراہم کیا، جس سے حساس معاملات پر کھل کر گفتگو ممکن ہوئی۔ ان کے بقول اس عمل کی کامیابی کا انحصار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی اور غیر ضروری مطالبات سے گریز پر ہے۔

سفارتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات میں مکمل تعطل نہیں آیا بلکہ بعض شعبوں میں جزوی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگر متنازع نکات پر لچک دکھائی گئی تو آئندہ دور میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان اب بھی موجود ہے، خصوصاً اس لیے کہ دونوں فریق براہِ راست رابطے کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں