اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اہم مذاکرات، قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد پہنچ گیا، خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز
ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود اسلام آباد پہنچ گئے، پاکستان ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، خطے میں امن مذاکرات اہم مرحلے میں داخل۔
یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے) اسلام آباد میں خطے کی غیر معمولی اہمیت کی حامل سفارتی پیش رفت کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات سے قبل اعلیٰ سطحی وفود کی آمد شروع ہو گئی ہے، ایران کا مذاکراتی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔
جہاں ان کا استقبال وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا، جبکہ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی امریکی وفد کے ہمراہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں، ان مذاکرات میں امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر بھی شریک ہوں گے، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی الرٹ،امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کا انتظار، ریڈ زون مکمل سیل
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان گذشتہ چند ہفتوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جسے امریکہ نے مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد قرار دیا ہے۔
جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 15 نکاتی منصوبے کا ذکر کیا ہے تاہم دونوں تجاویز سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں اور مبینہ طور پر لیک ہونے والے مسودات کے مطابق دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح اور گہرا اختلاف پایا جاتا ہے۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے مؤقف میں بنیادی اختلافات ایسے ہیں جو مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب خطے کی مجموعی صورتحال بھی اس سفارتی عمل پر اثر انداز ہو رہی ہے، اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فضائی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے امن کوششوں کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے اثرات تمام محاذوں پر یکساں نہیں ہوں گے، اسی دوران لبنان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر بات چیت کرے گا۔
ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف کو ایران کی سیاسی قیادت میں ایک اہم اور بااثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی شامل ہیں، جو ایران کے معاشی مفادات اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کریں گے، ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے عائد معاشی پابندیاں اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ حالیہ جنگ اور خطے میں کشیدگی کے باعث ایران کی صنعتی پیداوار اور معاشی صورتحال مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کردار کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ آئندہ گھنٹوں میں مذاکرات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔