اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 اور غیر متوقع تنازع کا شکار
بھارت میں منعقدہ ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026’ میں گلگوٹیاس یونیورسٹی کی جانب سے چینی روبوٹس کو طلبہ کی ایجاد قرار دینے پر عالمی سطح پر تنقید۔
یوتھ ویژن نیوز : بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والی ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ جس کا مقصد بھارت کو مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی منڈی کے طور پر پیش کرنا تھا، ایک شرمناک تنازع کی نذر ہو گئی ہے۔ اس پانچ روزہ عالمی نمائش میں، جہاں 110 سے زائد ممالک کے وفود شریک تھے، ایک نجی تعلیمی ادارے ‘گلگوٹیاس یونیورسٹی’ (Galgotias University) نے درآمد شدہ چینی ٹیکنالوجی کو اپنے طلبہ کی محنت قرار دے کر پیش کیا، جس کے بعد بھارت کو عالمی سطح پر شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
چینی روبو ڈاگ اور جھوٹے دعوے
اس تنازع کی بنیاد اس وقت پڑی جب یونیورسٹی کے اسٹال پر موجود پروفیسر نیہا سنگھ نے میڈیا اور حکومتی وزراء کے سامنے ایک ’روبوٹک ڈاگ‘ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ یونیورسٹی کے ‘سینٹر آف ایکسی لینس’ میں تیار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مودی حکومت کے وزراء نے بھی اس ’کامیابی‘ کو فخر سے شیئر کیا، لیکن جیسے ہی ویڈیو وائرل ہوئی، عالمی فیکٹ چیکرز اور ٹیک ماہرین نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ روبوٹ دراصل چینی کمپنی ’یونی ٹری‘ (Unitree) کی ایجاد ہے جو عالمی مارکیٹ میں عام دستیاب ہے۔
سیاسی ردِعمل: "سستا چائنا بازار”
اس واقعے نے بھارت کی اندرونی سیاست میں بھی آگ لگا دی ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے اسے قومی سطح پر شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے ایک سنجیدہ عالمی پلیٹ فارم کو محض ’سستا چائنا بازار‘ بنا دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی میڈیا نے بغیر کسی تصدیق کے اس جھوٹ کی تشہیر کی، جس سے ملک کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
پروفیسر کا موقف اور ملازمت کا سوال
شدید عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے بعد یونیورسٹی کی نمائندہ پروفیسر نیہا سنگھ اپنے سابقہ بیان سے مُکر گئی ہیں۔ ان کا اب یہ موقف ہے کہ یونیورسٹی نے کبھی اسے اپنی ایجاد نہیں کہا تھا۔ تاہم، سوشل میڈیا صارفین نے ان کے لنکڈ اِن (LinkedIn) پروفائل پر ‘اوپن ٹو ورک’ کا اسٹیٹس دیکھ کر یہ قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک پروفیسر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گی۔
طلبہ کا غیر یقینی مستقبل اور ساکھ کا بحران
اس اسکینڈل کا سب سے افسوسناک پہلو یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم طلبہ پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ یوٹیوب پر وائرل ایک انٹرویو میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ایک طالب علم نے روتے ہوئے کہا کہ "میں ایک کسان کا بیٹا ہوں اور اپنی تعلیم کے لیے بڑی رقم خرچ کر رہا ہوں، لیکن اب مجھے ڈر ہے کہ اس واقعے کے بعد کوئی اچھی کمپنی ہمیں نوکری نہیں دے گی۔” یونیورسٹی کے اسٹال کو انتظامیہ نے خالی تو کرا دیا ہے، لیکن ادارے کی ساکھ پر لگنے والا دھبہ صاف ہونا مشکل نظر آتا ہے۔
عالمی اثرات اور سمٹ کی ناکامی
اگرچہ اس سمٹ کا مقصد ‘گلوبل ساؤتھ’ کے لیے سستی ٹیکنالوجی کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کرنا تھا، لیکن بدانتظامی اور اس طرح کے فراڈ نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ماہرین کو مایوس کیا ہے۔ کئی عالمی رہنماؤں نے آخری وقت پر اس سمٹ میں شرکت سے معذرت کر لی تھی، جسے اب بھارت کی تکنیکی دنیا میں ایک بڑی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔