اسلام آباد مذاکرات کشیدگی کے خاتمے کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے ، بلاول بھٹو

اسلام آباد مذاکرات بڑی کامیابی بلاول بھٹو کی نمایاں تصؤیر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف مذاکرات کا انعقاد ہی ایک بڑی پیش رفت ہے، کیونکہ جنگ بندی کے بعد دونوں اہم طاقتیں پہلی بار براہِ راست بات چیت کر رہی ہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے مختلف حصوں میں بمباری رک چکی ہے، اور تمام فریقین ایک پائیدار اور مستقل حل کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنگ بندی کو مستقل امن کی طرف قدم قرار

بلاول بھٹو نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی موجودہ تنازع کے مزید پائیدار اور مستقل حل کی بنیاد بنے گی۔ ان کے مطابق نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا ان مذاکرات کو امید کے ساتھ دیکھ رہی ہے، کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران جنگ نے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی ترسیل اور سفارتی توازن پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

عالمی سفارتی کوششوں کو سراہا

چیئرمین پیپلزپارٹی نے ایران اور امریکی قیادت کے ساتھ ساتھ چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا، اسی لیے اجتماعی سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کی راہ ہموار کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، جس سے اسلام آباد کو ایک مؤثر سفارتی مرکز کے طور پر عالمی توجہ حاصل ہوئی۔

’جنگ کوئی آپشن نہیں‘

بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان یہ معاملہ پیچیدہ ضرور ہے، مگر گزشتہ چھ ہفتوں کے حالات نے ثابت کر دیا کہ جنگ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول حل نہیں۔ ان کے مطابق اگر مستقل امن کے لیے درمیانی راستہ نہ نکالا گیا تو مستقبل میں مزید خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ تنازع کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں، اس لیے مستقل جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں