نامور گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) برصغیر کی نامور اور ہمہ جہت پلے بیک گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہیں ہفتے کی شام طبیعت بگڑنے پر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ اتوار کی صبح دورانِ علاج انتقال کر گئیں۔ متعدد معتبر ذرائع کے مطابق ان کی وفات دل اور سانس سے متعلق پیچیدگیوں کے بعد ہوئی۔
آشا بھوسلے کو بھارتی موسیقی کی تاریخ کی سب سے بااثر، ورسٹائل اور مقبول آوازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کا فنی سفر آٹھ دہائیوں پر محیط رہا، جس میں انہوں نے فلمی گیت، غزل، کلاسیکل، قوالی، پاپ اور علاقائی زبانوں کے گانوں سمیت ہزاروں شاہکار پیش کیے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے 12 ہزار سے زائد گانے مختلف زبانوں میں ریکارڈ کیے، جو ایک غیر معمولی عالمی ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔
آٹھ دہائیوں پر محیط لازوال سفر
آشا بھوسلے نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1943 میں کم عمری میں کیا۔ انہیں موسیقی کی ابتدائی تربیت اپنے والد Deenanath Mangeshkar سے ملی، جبکہ بعد میں وہ برصغیر کی فلمی موسیقی کی پہچان بن گئیں۔ ان کی آواز نے کئی نسلوں کو متاثر کیا اور بالی ووڈ کے سنہری دور سے جدید موسیقی تک ہر دور میں اپنی جگہ برقرار رکھی۔
ان کے مشہور گانوں میں پیا تو اب تو آجا، دم مارو دم، چرا لیا ہے تم نے اور بے شمار لازوال نغمے شامل ہیں، جنہوں نے انہیں عوامی اور تنقیدی سطح پر بے مثال مقام دیا۔
اعزازات اور عالمی شناخت
آشا بھوسلے کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، پدم وبھوشن اور کئی فلم فیئر ایوارڈز شامل ہیں۔ ان کی وفات کو بھارتی موسیقی کی ایک عہد ساز آواز کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔