عمران خان کی اسپتال منتقلی کی تاریخ طے: طارق فضل چوہدری کا بڑا انکشاف، پی ٹی آئی کا دھرنا ختم
یوتھ ویژن نیوز : (سیاسی ذرائع) پاکستان کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب وفاقی وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بانی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت اور ان کی اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقلی کے حوالے سے اہم ترین تفصیلات شیئر کیں۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم، جو کہ گزشتہ کئی ماہ سے مختلف قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اب اپنی صحت کے حوالے سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ صحافی زاہد فاروق ملک کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو نے ان افواہوں کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے کہ عمران خان کو طبی بنیادوں پر جیل سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اسپتال منتقلی کا شیڈول اور شرائط
طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی مستقل بنیادوں پر نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے ایک مخصوص طبی پروٹوکول طے کیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو پہلا انجکشن 25 جنوری کو لگایا جا چکا ہے، جبکہ دوسرا انجکشن 25 فروری کو لگایا جائے گا۔ اس کے ٹھیک ایک ماہ بعد تیسرے انجکشن کا مرحلہ آئے گا۔ وزیرِ مملکت کے مطابق، یہ علاج صرف ان اسپتالوں میں ممکن ہے جہاں ‘ٹرشری کیئر’ (Tertiary Care) کی جدید سہولیات موجود ہوں، لہٰذا انہیں صرف انجکشن لگانے کی مدت تک اسپتال منتقل کیا جائے گا اور عمل مکمل ہوتے ہی دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے گا۔
بینائی کا مسئلہ اور عدالتی مداخلت
عمران خان کی صحت کا معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گیا تھا جب جیل میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کی۔ اس حساس معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوری نوٹس لیا اور بیرسٹر سلمان صفدر کو ‘فرینڈ آف کورٹ’ (Amicus Curiae) مقرر کیا۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے کے بعد عدالت میں ایک تشویشناک رپورٹ پیش کی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد باقی رہ گئی ہے۔ اس رپورٹ نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور قیادت میں شدید اضطراب پیدا کر دیا تھا، جس کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ سابق وزیراعظم کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرے۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور موجودہ صورتحال
عدالتی احکامات کی روشنی میں 15 فروری کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس معائنے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس بھی موجود تھے۔ میڈیکل بورڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، بروقت طبی امداد اور پہلے انجکشن کے بعد عمران خان کی آنکھوں کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو کہ ایک مثبت علامت ہے۔ ڈاکٹروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اگر علاج کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو بینائی مکمل طور پر بحال ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
سیاسی اثرات اور احتجاج کا خاتمہ
عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے حکومتی تصدیق اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سیاسی تناؤ میں کسی حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف اور دیگر اتحادی جماعتوں نے، جو عمران خان کی جان کو لاحق خطرات اور علاج میں تاخیر پر سراپا احتجاج تھیں، اپنا طویل دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اہم ہے بلکہ اس سے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
نتیجہ
عمران خان کی 25 فروری کو مجوزہ اسپتال منتقلی پاکستانی سیاست اور عدالتی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، وہی دوسری طرف پی ٹی آئی اپنی قیادت کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ انے والے دن یہ واضح کریں گے کہ یہ طبی عمل کس حد تک شفاف رہتا ہے اور اس کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔