ایران مذاکرات میں عدم اعتماد کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، عباس عراقیچی

عباس عراقچی: ایران مذاکرات میں عدم اعتماد

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں مکمل عدم اعتماد کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بار بار وعدوں کی خلاف ورزیوں نے تہران کو محتاط اور سخت مؤقف اپنانے پر مجبور کیا ہے، تاہم ایران اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا کہ ایران مذاکرات کو ایک سفارتی موقع ضرور سمجھتا ہے، مگر اعتماد کی فضا ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے ماضی میں کیے گئے وعدوں سے انحراف ایران کے موجودہ رویے کی بنیادی وجہ ہے۔

قومی مفادات کے تحفظ پر زور

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے مفادات، خودمختاری اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر بھرپور انداز میں مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات میں شامل ضرور ہو رہا ہے، لیکن اس کا مقصد کسی دباؤ کے تحت فیصلے کرنا نہیں بلکہ ایک متوازن اور قابلِ عمل حل کی طرف بڑھنا ہے۔

اعتماد کا فقدان مذاکرات کا بڑا چیلنج

سفارتی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے “عدم اعتماد” کا واضح اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ اگرچہ دونوں فریقین بات چیت کی میز پر آ چکے ہیں، تاہم اعتماد سازی، پابندیوں، سلامتی اور خطے کی صورتحال جیسے معاملات اب بھی بنیادی چیلنجز میں شامل ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات پر عالمی نظریں

ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں جاری مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران کے اس محتاط مؤقف سے واضح ہے کہ کامیابی کے لیے صرف سفارتی رابطے نہیں بلکہ عملی یقین دہانیاں بھی درکار ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں