اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات ،کانگریس نے بھارتی حکومت کی سفارتکاری پر سوال اٹھا دیا
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) نئی دہلی: اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے بھارت کی داخلی سیاست میں بھی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی یہ بات چیت خطے میں امن کے لیے امید پیدا کرتی ہے، مگر اس نے بھارت کی سفارتی پوزیشن پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات ایک پائیدار امن عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی سفارتی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال سے مؤثر سفارتی فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
بھارت کی سفارتی پوزیشن پر سوال
کانگریس کے مطابق بھارت نے برکس اور دیگر عالمی فورمز میں اپنی موجودگی کے باوجود مغربی ایشیا میں امن کے لیے کوئی نمایاں سفارتی پہل نہیں کی۔ پارٹی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ جب پاکستان امریکا اور ایران کو ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوا تو یہ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ یکطرفہ تعلقات پر حد سے زیادہ انحصار نے بھارت کی تزویراتی گہرائی اور آزاد سفارتی کردار کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث ایک اہم علاقائی موقع ضائع ہوا۔
امن کے لیے کشیدگی میں کمی ضروری
جے رام رمیش نے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں فوری طور پر کشیدگی کم کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کو بھی اس حساس صورتحال میں امن، سفارت کاری اور متوازن خارجہ حکمتِ عملی کو ترجیح دینی چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کا یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے صرف خطے ہی نہیں بلکہ بھارت کی اندرونی سیاست میں بھی خارجہ پالیسی سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔