سپریم کورٹ کا پارک کی زمین پر بنی مسجد، مزار گرانے کا حکم

کراچی (واصب ابراہیم غوری سے)سپریم کورٹ نے کراچی میں کڈنی ہل پارک کی بحالی کیس میں پارک کی زمین پر بنی مسجد کا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے مسجد، مزار اور قبرستان سمیت غیرقانونی تعمیرات گرانے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کڈنی ہل پارک بحالی کیس سمیت کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مختلف کیسز کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر شہری نے امبرعلی بھائی نے کہا کہ مجموعی طور پر 4.9 ایکڑ پارک کے لیے مختص ہے، بالائی حصے پر پھر مسجد کی تعمیر شروع ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان میں کوئی مسجد نہیں تھی۔
الفتح مسجد کے وکیل خواجہ شمس نے کہا کہ زمین کے ایم سی سے نیلامی کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، جس پر جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ کوئی عبادت گاہ غیر قانونی زمین پر تعمیر نہیں کی جاسکتی۔
وکیل خواجہ شمس نے کہا کہ الفتح مسجد شہید کرکے نئی مسجد تعمیر کرائی جارہی ہے، انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر اسما بتول پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے فرقہ واریت کا رنگ دینے کے لیے مزار اور قبرستان آباد کرایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ راتوں رات بسم اللہ مسجد فرقہ واریت کے لیے بنوائی گئی، عدالت کا حکم ڈیمارکیشن کا تھا مسجد شہید کرنے کا حکم نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ پارک میں کہیں بھی نماز پڑھنے سے نہ روکا جائے لیکن پارک کی حدود میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اسلام بھی غیر قانونی زمین پر مساجد کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتا، کے ایم سی کے پاس پارک کی زمین پر مسجد کا لائسنس دینے کا اختیار نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے الفتح مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست مسترد کیا اور کے ایم سی کی جانب سے دیا گیا لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے مسجد کے لیے مختص زمین کے ایم سی کو واپس کرنے کا بھی حکم دے دیا۔
اس موقع پر چیف جستس نے اسسٹنٹ کمشنر اسما بتول کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر ایک قبر کا بتایا گیا تھا اب پورا قبرستان بن گیا ہے، آپ لوگ افسران ہیں، شہر کے کرتا دھرتا ہیں، آپ لوگ کیا کررہے ہیں۔
چیف جسٹس کا اسسٹنٹ کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم تمام پارکس کو قبرستان بناتے جائیں گے، آپ کے گیٹ کے سامنے قبر بنادیں گے تو آپ کیا کریں گے۔
الفتح مسجد کے وکیل خواجہ شمس نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے نسلہ ٹاور کا انہدام بھی رکوا دیا تھا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ حفاظتی اقدامات کے بغیر انہدام ہو رہا تھا اس لیے چند گھنٹوں کے لیے روکا تھا۔
عدالت نے سوال کیا کہ حفاظتی اقدام بھی آپ کا کام تھا یا کسی اور کا تھا؟ جبکہ عدالت میں موجود چند خواتین نے استدعا کی کہ اسسٹنٹ کمشنر اسما بتول اپنے شوہر کے ساتھ مل کر بلیک میل کرتی ہیں، شوہر مختیار کار سے مل کر نقشے بناتی ہیں اور کارروائی نہیں کرتیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نوجوان افسر ہیں، اس طرح کے کام مت کریں، اس دوران چیف جسٹس نے اسسٹنٹ کمشنر کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ خاموش ہوجائیں، آپ کو معلوم نہیں کیا کررہی ہیں، آپ نوکری سے جائیں گی اور پھر کبھی نوکری نہیں ملے گی۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ خاموشی سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرائیں اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم آپ کو آپ کا کام بھی بتائیں، آپ لوگ کس لیے ہیں، ہم بتائیں گے کیسے پارکس بنانا ہے کیسے بچانا ہے، آپ لوگ دفتروں میں بیٹھنے اور لیٹر لکھنے کے لیے ہیں، لیٹر تو کوئی بابو بھی لکھ دیتا ہے، اتنے بڑے بڑے افسر اس لیے بن گئے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ہر گلی میں گڑبڑ ہے، ہر گلی میں مسائل ہیں آپ لوگوں کو پرواہ نہیں، آپ کے سامنے پتھر پڑا ہوگا مگر آپ ہٹائیں گے نہیں نظر انداز کرکے نکل جائیں گے۔
عدالت نے کڈنی ہل پارک کی زمین مکمل واگزار کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ پارک کی حدود میں تعمیر شدہ بسم اللہ مسجد بھی ختم کریں اور حکم دیا کہ کڈنی ہل پارک کی حدود میں قائم مزار اور قبرستان بھی ختم کریں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ پارک کو غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ بنایاجائے اور پارک میں مسلح سیکیورٹی گارڈز تعینات کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں