صو بہ سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ شدید پانی بحرا ن ہے، صوبائی وزیرمحکمہ آبپاشی جام خان شورو

کرا چی : (واصب ابراہیم غوری سے) صو با ئی وزیر برا ئے محکمہ آبپا شی جام خان شورو نے کہا ہے کہ صو بہ سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ شدیدپانی بحرا ن ہے،ارسا صوبہ سندھ کو 1991کے معاہدے کے مطابق پانی فراہم نہیں کررہا جس کے باعث بلوچستا ن، رائس کینال اور دادو کینال میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ سمندر میں پا نی نہ چھوڑنے کی وجہ سے صو بہ سندھ کی 22سے 32لا کھ ایکڑ زر عی ارا ضی بنجر بن چکی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ایل بی او ڈی اور آر بی او ڈی کی غلط پلاننگ کے باعث صو بہ سندھ کو بہت نقصان ہورہا ہے ۔ایل بی او ڈی کو جنر ل ضیاء کے دور میں تعمیر کیا گیا جس کی وجہ ضلع بدین ،تھر پارکر اور میر پورخاص میں بارشوں کے دوران بہت نقصان ہوتا ہے اور پرا نے قدر تی واٹر ویز کو بھی کٹ لگ رہاہے ۔اسکو مد نظررکھتے ہو ئے محکمہ آبپاشی سندھ نے حکمت عملی بنا ئی کہ کینا لز کی لا ئیننگ کی جائے ا س سلسلے میں صو بہ سندھ نے 2008سے ابتک 32سو کلو میٹر کے قریب مختلف کینا لز کی واٹر لا ئیننگ کے منصو بے مکمل کیئے ہیں ۔واٹر لا ئننگ کے حوالے سے رواں مالی سال 16 منصو بوں پر کام جا ری ہے اس میں سے15 سالانہ ترقیاتی منصوبے رواں سال مکمل کیے جائیں گیں جبکہ 509کلو میٹر پر مختلف نئے کینالز کی لائننگ کا کام بھی جاری ہے ۔ان باتوں کا اظہار انہوں آج محکمہ آبپا شی سندھ کی کارکر دگی اور جا ر ی تر قیاتی منصوبوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی ۔اس مو قع پرصوبائی وزیر اطلا عا ت سعید غنی بھی انکے ہمرا ہ سا تھ تھے ۔صو با ئی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بریفنگ دیتے ہو ئے بتایا کہ محکمہ آبپا شی کے واٹر اینڈ ڈرینج سیکٹر میں رواں مالی سا ل کل 138اسکیمیں ہیں جن میں سے 84نئی واٹر اینڈ ڈرینج کی اسکیمیں شامل ہیں جن کے لئے 40بلین رو پے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے بتا یا کہ سندھ حکومت نے ملک سے بجلی کی قلت کو ختم کر نے لئے تھرکول منصو بہ شروع کیا جس میں 4 ترقیا تی منصوبو ں کےلئے 546بلین رو پے رکھے گئے ہیں ان منصو بو ں پر کا م جا ری ہے جو کہ رواں مالی سال جلد مکمل کر لئے جا ئینگے ۔انہو ں نے بتا یا کہ میچنگ ایلو کیشن کے سیکٹرمیں 7 منصوبو ں پر کا م جاری ہے جن میں سے 5 ترقیاتی منصو بے اگلے سال مکمل کئے جا ئینگے جبکہ ایک نئی اسکیم پی ایس ڈی پی کے تحت سابق صدرآصف علی زرداری نے شرو ع کر وا یا تھا جو کہ پا نی کی قلت کو دو ر کر نے کےلئے 109واٹر چینلز کی تعمیر کی تھی جس میں سے 56واٹر چینلز کے منصو بو ں کو مکمل کیا گیا ہے جبکہ 32ایسی واٹر چینلز کی تر قیا تی اسکیمیں ہیں جس پر مو جو دہ پی ٹی آئی حکومت نے فنڈز کی عدم فرا ہمی کے با عث کا م رو ک دیا ہے جبکہ 21واٹر چینلز کے وہ منصو بے ہیں جن پر وفا قی حکومت کا م کر نا نہیں چا رہی ۔صو با ئی وزیر جا م خا ن شورو نے مزید بتا یا کہ تھر پا ر کر ،کا چھو اور دیگر بنجر علا قو ں میں اسما ل ڈیمز کی 44تر قیا تی اسکیمیں مکمل کی گئی ہیں جبکہ 16اسما ل ڈیمز کے تر قیا تی منصو بو ں پر کا م جا ر ی ہے جو کہ روا ں سال کے آخر میں مکمل کئے جا ئینگے ۔انہو ں نے بتا یا کہ ورلڈ بینگ کے تعا ون سے محکمہ آبپا شی سندھ تین تر قیا تی منصو بو ں پر کا م کر رہا ہے جس میں بیرا ج امپرو منٹس پرو جیکٹ ،سندھ ریزیلئینس اور SWATپرو جیکٹس شا مل ہیں جس کے تحت گڈو اور سکھر بیرا ج کے بحا لی کاکا م کیا جا ئے گا اور سندھ ریزیلئنس پرو جیکٹ کے تحت در یا ئے سندھ کے 9بچا ﺅ بند کی بحا لی اور مضبو طی کے منصو بے مکمل کر چکے ہیں جبکہ 14چھو ٹے ڈیمز کی تعمیر کا کا م بھی جا ر ی ہے ۔اس مو قع پر صو با ئی وزیر اطلا عا ت سعید غنی نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ لو کل گو ر نمنٹ سندھ کے نئے قا نو ن کے نظا م پر سندھ حکومت پر تنقید کر نا،الزا ما ت لگا نا اور مطا لبا ت کر نا سب کا حق ہے اس پر ہمیں کو ایشو نہیں ہے لیکن ایک اچھے قا نو ن کو جب اس میں بہتری بھی لا نے کے با وجو د اس کومنفی اندا ز میں پیش کر کے صو بہ سندھ میں نفر تیں اور لسا نی فسا دا ت پیدا کر نے کا عمل غلط ہے اور اس پر ہم دیگر سیا سی جما عتو ں کو بھی آگا ہی دے رہے ہیں ۔صو با ئی وزیر سعید غنی نے کہا کہ 2013کے قا نو ن کے مقا بلے میں اس وقت لو کل گو ر نمنٹ کے قا نو ن میں ترا میم کر کے اس کو بہتر بنا یا گیا ہے اور کچھ چیزیں جو 2001کے لو کل گو ر نمنٹ کے قا نو ن میں نہیں تھی انہیں بھی شا مل کیا گیا ہے ۔انہو ں نے مزید کہا کہ 2001 اور 2013کے لو کل گو ر نمنٹ کے قا نو ن میں سا لڈ ویسٹ مینجمنٹ میں مئےر کرا چی کے پا س اختیا را ت نہیں تھے جبکہ پہلی مر تبہ پیپلز پا ر ٹی کی سندھ حکومت نے نئے لو کل گو ر نمنٹ کے قا نو ن میں سا لڈ ویسٹ مینجمنٹ بو ر ڈ کا چیئر مین میئر کو بنا دیا ہے جبکہ وائس چیئر مین کمشنر کرا چی ہو گا

اپنا تبصرہ بھیجیں