نواز شریف کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ افسوس
یوتھ ویژن نیوز : (نمائدہ خصؤصی امجد محمود بھٹی سے) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں اپنا بااعتماد دوست، وفادار ساتھی اور بھائی قرار دیا ہے۔ دراصل، نواز شریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ عرفان صدیقی کی وفات اُن کے لیے ذاتی اور سیاسی دونوں حوالوں سے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے مطابق، “اپنے انتہائی مخلص، بااعتماد اور بھائی عرفان صدیقی کی وفات پر بڑا دکھ ہوا۔ عرفان صدیقی کا قلم اصول اور حریتِ فکر کی دلیل بنا رہا۔ اُن سے میرا محبت کا رشتہ تھا، میرا غم الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔”
مزید برآں، نواز شریف نے کہا کہ عرفان صدیقی کی وفات دراصل ایک ایسے دوست کے بچھڑنے کے مترادف ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی وفاداری اور اصولوں پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک منفرد لکھاری، عاجز مزاج اور روشن دماغ شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ دلیل، تدبر اور سچائی کو اپنا شعار بنایا۔ اسی وجہ سے، ان کی تحریریں صرف سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ فکری رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں : صدر مملکت اور وزیراعظم کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ افسوس
دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور کارکنان نے بھی عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، نواز شریف عرفان صدیقی کو نہ صرف ایک ساتھی بلکہ اپنے قریبی مشیر اور فکری ہمسفر کے طور پر دیکھتے تھے۔ چنانچہ، ان کے انتقال نے مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں گہرے خلا کو جنم دیا ہے۔
علاوہ ازیں، نواز شریف نے کہا کہ عرفان صدیقی کی خدمات، ان کا اخلاص اور ان کی بصیرت ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ “انہوں نے ہمیشہ قوم کو علم، تحقیق اور برداشت کا درس دیا۔ وہ اختلاف کے باوجود احترام کے قائل تھے، یہی اُن کی سب سے بڑی خوبی تھی۔” بالآخر، نواز شریف نے مرحوم کے اہلِ خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عرفان صدیقی کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔
مزید پڑھیں : مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کر گئے
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ وہ دو ہفتوں سے سانس کی تکلیف میں مبتلا تھے اور سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ عرفان صدیقی کو نواز شریف کا قریبی ساتھی، مشیر اور فکری رہنما سمجھا جاتا تھا۔