چمن بارڈر پر فائربندی کی خلاف ورزی، پاکستانی فورسز کا مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب: وزارتِ اطلاعات

“چمن سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا منظر، فائربندی کی خلاف ورزی کے بعد حالات پر قابو پایا جا رہا ہے”

چمن بارڈر پر افغان جانب سے فائرنگ، پاکستانی فورسز نے مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب دیا، وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ فائربندی برقرار ہے۔

یوتھ ویژن نیوز: (عمران قذافی سے) وزارتِ اطلاعات و نشریات نے تصدیق کی ہے کہ پاک افغان سرحد پر چمن کے مقام پر فائربندی کی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور ذمہ دارانہ ردعمل دیا۔

وزارت کے مطابق افغانستان کی جانب سے بعض عناصر نے بلا اشتعال پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی، تاہم پاکستانی فورسز نے نہایت تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ حالات پر قابو پایا۔ وزارتِ اطلاعات کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغان حکام کے اس مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے ہوا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ابتدائی گولیاں افغان حدود کی طرف سے چلائی گئیں جن کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دفاعی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پوزیشن کا تحفظ کیا بلکہ کسی بھی بڑے تصادم سے گریز کیا۔ وزارت کے مطابق، پاکستان کی فورسز نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فائربندی کی پاسداری کے اصولوں کو برقرار رکھا اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکا۔ ترجمان وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر افغانستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور سرحدی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید یہ بھی پڑھیں : پاک افغان بارڈر پر پاک فوج کی جوابی کارروائی سے متعدد افغان فوجی ہلاک

ترجمان نے مزید کہا کہ جنگ بندی بدستور برقرار ہے اور پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان حکام بھی سرحدی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کریں گے۔ وزارت کے مطابق، پاکستان نے واقعے کے بعد متعلقہ حکام کے ذریعے کابل انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دی جا سکے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ ایک محدود علاقے تک تھا اور پاکستانی فورسز نے انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی کو نقصان سے محفوظ رکھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ سرحدی جھڑپ اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اور سکیورٹی تعاون پر بات چیت جاری ہے۔ چمن بارڈر، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، حالیہ برسوں میں متعدد بار کشیدگی کا شکار رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس واقعے میں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کارروائی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ سرحدی نظم و ضبط دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے، اور اشتعال انگیزی سے صرف بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی فائرنگ یا سرحدی خلاف ورزی کا مناسب اور متناسب جواب دیا جائے گا، لیکن پاکستان کی پالیسی امن پر مبنی ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سرحدی امن کے لیے تمام سفارتی اور دفاعی ذرائع بروئے کار لائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کے بجائے بہتر سمت میں آگے بڑھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں