نیوزی لینڈ میں 100 مقناطیس نگلنے والا 13 سالہ لڑکا آنتوں سے محروم ، ڈاکٹرز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

new-zealand-boy-swallows-100-magnets-health-warning

یوتھ ویژن نیوز : (ہیلتھ ڈیسک) — نیوزی لینڈ میں ایک 13 سالہ لڑکے نے آن لائن خریدے گئے طاقتور مقناطیسی کھلونوں کو نگل کر اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لڑکا تقریباً 80 سے 100” نیوڈیمیم“ (Neodymium) مقناطیسی گولیاں نگلنے کے بعد سنگین طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو گیا۔ یہ گولیاں ایک آن لائن مارکیٹ پلیس — مبینہ طور پر Temu — سے خریدی گئی تھیں۔ بچے کو نگلنے کے چار دن بعد تک شدید پیٹ درد اور متلی کی شکایت رہی، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے ایکسرے کے ذریعے اس کے معدے میں مقناطیسوں کو زنجیر کی طرح جڑا ہوا پایا، جو مختلف حصوں میں جمع ہو کر آنتوں کے ٹشوز کو نقصان پہنچا چکے تھے۔ فوری طور پر سرجری کی گئی، جس میں نہ صرف تمام مقناطیس نکالے گئے بلکہ آنتوں کے اس حصے کو بھی کاٹنا پڑا جو مردہ ٹشوز اور اندرونی دباؤ کے باعث ناکارہ ہو چکا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ “انتہائی خطرناک” اور “روکنے کے قابل سانحہ” ہے۔ اسپتال کے ترجمان نے کہا کہ بچے کی جان بچ گئی لیکن اسے آنتوں کے ایک حصے سے محروم ہونا پڑا۔ ڈاکٹروں نے والدین کو متنبہ کیا ہے کہ آن لائن دستیاب چھوٹے مگر طاقتور مقناطیسی کھلونے بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ مقناطیس اگر ایک سے زیادہ نگل لیے جائیں تو وہ معدے یا آنتوں کے مختلف حصوں میں پہنچ کر ایک دوسرے کے ساتھ “چپک” جاتے ہیں، جس سے ٹشوز کے درمیان دباؤ، خون کی روانی میں رکاوٹ اور سوراخ بننے جیسے خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔

برطانوی اور آسٹریلوی طبّی اداروں کی ماضی کی رپورٹس کے مطابق ایسے کیسز میں بعض اوقات شدید اندرونی خون بہنے یا سیپٹک شاک کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نیوڈیمیم مقناطیس عام اسٹیل یا آئرن مقناطیس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور ان کے اثرات بچے کے نازک اعضا پر فوری پڑتے ہیں۔ ڈاکٹرز نے حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ان کھلونوں کی آزاد فروخت پر پابندی لگائی جائے، خصوصاً آن لائن مارکیٹ پلیسز کو اس حوالے سے ضابطے میں لایا جائے۔ نیوزی لینڈ کے میڈیکل ریسرچ بورڈ نے بھی واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کھلونوں کی فروخت پر پہلے سے کوئی حفاظتی ضابطہ موجود ہے یا نہیں۔ بچے کی والدہ نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان چھوٹی چمکدار گولیوں میں اتنا خطرناک عنصر موجود ہے۔ انہوں نے دیگر والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی چیزوں سے ہرگز کھیلنے نہ دیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مقناطیس اگر کھانے یا پینے کی اشیاء کے ساتھ نگل لیے جائیں تو معدے کے نرم ٹشوز کے درمیان چپکنے کی وجہ سے اندرونی راستے بند ہو سکتے ہیں، جس سے زہریلے مادوں کا اخراج رک جاتا ہے اور جسم شدید انفیکشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ میں بھی اسی نوعیت کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں بعض بچوں کو مستقل طور پر آنتوں یا معدے کے حصے سے محروم ہونا پڑا۔ ماہرین صحت کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی طبی علامت جیسے پیٹ درد، قے یا بخار کی صورت میں فوری طور پر اسپتال سے رجوع کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں