وزیر اعظم شہباز شریف اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اہم ملاقات،غزہ جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار
وزیرِاعظم شہباز شریف اور فلسطینی صدر محمود عباس کی ملاقات، غزہ جنگ بندی پر اطمینان، پاکستان کی فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اعادہ۔
یوتھ ویژ ن نیوز: (عمران قذافی سے) مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ بھی شریک تھے۔ یہ ملاقات غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط سے چند گھنٹے قبل ہوئی، جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی طرف ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات نہایت گرمجوشی اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، خطے کی صورتحال، اور فلسطین کے مستقبل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ صدر محمود عباس نے وزیرِاعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے — خواہ وہ سفارتی محاذ ہو یا انسانی ہمدردی کا میدان۔“
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے جس جرأت مندانہ مؤقف کا مظاہرہ کیا، وہ امتِ مسلمہ کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ محمود عباس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطین اور پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہوں گے تاکہ عالمی سطح پر فلسطینی مقصد کو مشترکہ انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
مزید پڑھیں : غزہ جنگ بندی: وزیرِ اعظم شہباز شریف شرم الشیخ پہنچ گئے، عالمی رہنماؤں کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر دستخط آج متوقع
وزیرِاعظم شہباز شریف نے فلسطینی صدر سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ”فلسطین کے عوام نے گزشتہ برسوں میں جس ہمت، صبر اور قربانی سے حالات کا سامنا کیا ہے، وہ پوری دنیا کے لیے مثال ہے۔ پاکستان فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا تھا اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔“
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی نہ صرف ایک انسانی المیے کے خاتمے کی نوید ہے بلکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھلیں گی۔ وزیرِاعظم نے اس موقع پر پاکستان کے عوام کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔
ملاقات میں بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ نے بھی پاکستان اور فلسطین کے درمیان تاریخی تعلقات کو سراہا اور کہا کہ مسلم دنیا کے اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنا اب وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”غزہ میں ہونے والا امن معاہدہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام کی بنیاد رکھے گا۔“
ذرائع کے مطابق، ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی کے بعد تعمیرِ نو، انسانی امداد کی بحالی، اور فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت میں عالمی برادری کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ”پاکستان اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کے فورمز پر فلسطین کے حقِ خود ارادیت کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔“
صدر محمود عباس نے اس موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے فلسطینی مقصد کے لیے طویل المدت حمایت پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیشہ ہمارے دکھ درد کو اپنا سمجھا۔ آج بھی جب دنیا غزہ کے زخموں کو بھولنے لگی تھی، پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔“
ذرائع کے مطابق، شرم الشیخ میں ہونے والا یہ غیر رسمی تبادلہ نہ صرف دو برادر ممالک کے درمیان اعتماد کی ایک نئی فضا قائم کرتا ہے بلکہ مستقبل میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے اندر ایک متحدہ پالیسی کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی فعال سفارتکاری اور امن کی کوششوں نے حالیہ جنگ بندی میں ایک خاموش مگر مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ غزہ میں جنگ بندی پائیدار ثابت ہوگی اور عالمی برادری اس موقع کو فلسطینی ریاست کے قیام کی سمت میں مثبت پیش رفت کے لیے استعمال کرے گی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ”یہ وقت شکایات کا نہیں بلکہ انسانیت کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھانے کا ہے۔“
ملاقات کے بعد شرم الشیخ کانفرنس کے اعلامیے میں بھی پاکستان اور فلسطین کے تعلقات کو “دوست، بھائی اور اصولی حمایت پر مبنی” قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں تمام فریقین سے اپیل کی گئی کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں اور فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شرکت اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ملک اب عالمی امن کے مباحث میں ایک سرگرم فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔