افغان مہاجرین کو اب واپس جانا ہوگا، خواجہ آصف کا دوٹوک اعلان! ’پاکستان اپنی سرحدوں کو خودمختار انداز میں سنبھالے گا‘

افغان مہاجرین کو اب واپس جانا ہوگا، خواجہ آصف کا دوٹوک اعلان! ’پاکستان اپنی سرحدوں کو خودمختار انداز میں سنبھالے گا‘

یو تھ وژن نیوز: ( ثاقب ابراہیم سے ) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کو اب اپنے وطن واپس جانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ پچاس سال سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ واپس جائیں تاکہ ملکی معیشت اور امن و امان کے معاملات میں استحکام لایا جا سکے۔

خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ حالات نے اب نئی کروٹ لی ہے، اور پاکستان اپنی سرحدوں کو دنیا کے دیگر خودمختار ممالک کی طرح باضابطہ اور محفوظ بنانا چاہتا ہے۔
ان کے بقول : “افغان مہاجرین ہماری زمین پر پچاس برس سے بیٹھے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے وطن لوٹ جائیں۔ ہمیں اپنی معیشت کو افغان مہاجرین کے قبضے سے آزاد کرانا ہوگا۔”

مزید پڑھیں : صدر مملکت آصف زرداری کا دو ٹوک مؤقف: ’’پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا

وزیرِ دفاع نے کہا کہ افغان مہاجرین نے پاکستان کے متعدد شعبوں پر معاشی اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تندوروں سے لے کر ٹرانسپورٹ تک، کنسٹرکشن سے ڈمپرز تک تقریباً ہر شعبے میں افغان باشندوں نے جگہ بنا لی ہے۔

”یہ تمام شعبے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن اب ان پر غیر ملکیوں کا قبضہ سا ہو گیا ہے۔ ہمیں اپنی معیشت کو دوبارہ پاکستانیوں کے ہاتھوں میں دینا ہوگا۔“

سرحدی نظم و ضبط پر زور

خواجہ آصف نے کہا کہ پاک افغان سرحد کو بھی دنیا کی دیگر سرحدوں کی طرح ہونا چاہیے — جہاں امیگریشن اور کسٹم کے اصول سختی سے نافذ ہوں۔
انہوں نے کہا، ”کوئی بھی شخص منہ اٹھا کر ہماری سرحد عبور نہ کرے۔ اگر وہ ہمارے ملک میں آنا چاہیں تو قانونی طریقے سے آئیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند روز میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

”ہم ان کی سرحد کا احترام کریں گے، لیکن وہ بھی ہماری سرحد کا احترام کریں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی صبح اٹھے اور تکے کھانے کے لیے پشاور چلا آئے اور شام کو واپس ہو جائے۔“

امیگریشن نظام کی ضرورت

وزیرِ دفاع نے تجویز دی کہ پاک افغان بارڈر پر باقاعدہ امیگریشن نظام قائم کیا جائے تاکہ آمد و رفت قانونی اور محفوظ طریقے سے ہو۔
انہوں نے کہا: ”یہ طرزِ عمل ختم ہونا چاہیے کہ کوئی شخص آئے، تندور کھولے، ڈمپر چلائے اور پھر شام کو افغانستان واپس چلا جائے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اب بارڈر پر باقاعدہ سسٹم ہونا ضروری ہے۔“

ماضی کی غلطیوں کا اعتراف

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں پاکستان نے ایسی پالیسیاں اپنائیں جن کا خمیازہ آج ملک بھگت رہا ہے۔

”ماضی کے حکمران زبردستی کسی اور کی جنگ میں کود پڑے۔ اب ہمیں وہی جنگ اپنی سرزمین پر لڑنی پڑ رہی ہے، اور اس کی قیمت عوام ادا کر رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے مطابق تشکیل دے اور اپنی سرحدوں کو ایسے ٹریٹ کرے جیسے ایک خودمختار ریاست کرتی ہے۔ ”پاکستان اب اپنی حدود کے اندر فیصلے خود کرے گا۔ اب کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ بغیر اجازت ہماری زمین استعمال کرے۔“

سرحد پار سرگرمیوں پر تشویش

خواجہ آصف نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کئی افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز عمل سے نہ صرف مقامی روزگار متاثر ہوا ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں۔

افغان حکومت سے تعلقات

وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ احترام اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کریں۔ ”اگر وہ ہمارے ملک میں قانونی طریقے سے آئیں گے تو ہم خوش آمدید کہیں گے۔ لیکن غیر قانونی داخلے کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔“

خواجہ آصف کے اس بیان نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ موقف پاکستان کی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اب سخت سرحدی نظم و ضبط اور خودمختار فیصلوں پر زور دے رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں