صدر کی توہین خاتون صحافی کو مہنگی پڑ گئی، جیل بھجوا دیا گیا
صدر مملکت کی توہین پر خاتون صحافی کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا۔
ترکی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق واقعہ ترکی میں پیش آیا جہاں ایک خاتون صحافی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی مبینہ توہین کی ، خاتون صحافی صدف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بیل محل پر چڑھ جائے تو وہ بادشاہ نہیں بن جاتا البتہ محل باڑہ ضرور ہوجاتا ہے۔
خاتون صحافی کی اس ٹویٹ پر انہیں ہفتے کی شب گرفتار کیا گیا اور عدالت پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں جیل بھجوا دیا، خاتون صحافی کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے، وہ اس کیس کا بھرپور دفاع کریں گے۔
ترکی کے قوانین کے مطابق صدر کی توہین کے الزام میں عدالت ایک سے چار سال تک قید کی سزا سنا سکتی ہے جب سے رجب طیب اردوان صدر بنے ہیں تب سے توہین صدر کے قانون کے تحت کئی لوگ زیر عتاب آ چکے ہیں۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق 2014 میں جب طیب اردگان ترکی کے صدر بنے اس کے بعد اب تک گزشتہ سات سالوں کے دوران صدر کی توہین پر ایک لاکھ 60 ہزار 169 تحقیقات کی جاچکی ہیں، اب تک صدر کی توہین پر 35 ہزار 507 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور عدالتوں نے 12 ہزار 881 افراد کو اردگان کی توہین کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائی ہیں۔
ابو ظہبی میں زور دار دھماکے، خطرے کے سائرن بجنے لگے
ایک صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی خاتون صحافی صدف کباس کو ترک صدر کےخلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر جیل بھیج دیا گیا، وہاں کسی نے Harassment کا شور نہیں مچایا، بلکہ اس صحافی کی بدتہذیبی کا برا منایا یہاں صرف دو، تین ٹوکریوں کےملک دشمن بیانیے اور FAKE نیوز پر ایسا علاج ہوجائے تو پورا میڈیا سیدھا ہو جائے۔